دنیا سازی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - بناوٹ، دکھاوا، اوپری دل سے کچھ کہنا۔ "کبھی دنیا سازی کے گر بھی بتا دیتے ہیں۔" ( ١٩٧٣ء، فاران، کراچی، ستمبر، ٢٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق 'دنیا' کے ساتھ فارسی زبان سے مصدر 'ساختن' سے فعل امر 'ساز' لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٦٩ء، کو "آخرگشت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بناوٹ، دکھاوا، اوپری دل سے کچھ کہنا۔ "کبھی دنیا سازی کے گر بھی بتا دیتے ہیں۔" ( ١٩٧٣ء، فاران، کراچی، ستمبر، ٢٣ )
جنس: مؤنث